13 اپریل 2012 - 19:30

ترکی کے شہر استنبول میں آج اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔

ابنا: ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان آج چودہ اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے باضابطہ مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران ، برطانیہ ، امریکہ ، فرانس ، روس ، چین اور جرمنی کے وفد اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون حصہ لے رہی ہیں۔

ترکی کے شہر استنبول میں سنہ دو ہزار گیارہ کو جنوری کے مہینے میں بھی ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جامع مذاکرات ہوۓ تھے جو یورپ کی جانب سے روڑے اٹکاۓ جانے کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ اگرچہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات کے بارے میں مختلف طرح کی قیاس آرائياں کی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ نے ان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کے ترجمان مائکل مان نے گزشتہ شب کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور ایسا ماحول پیدا کرے گا کہ جس کے نتیجے میں ایک مسلسل عمل کے ذریعے ہم محسوس نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی نے بھی ان مذاکرات سے قبل اس بات پر زور دیتے ہوۓ کہ تہران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کبھی کامیاب ثابت نہیں ہوئي ہے کہا کہ ایران مزید تعاون کے مقصد سے کامیاب مذاکرات کرنے پر آمادہ ہے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اسی نظریۓ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے گا تاکہ مذاکرات کا یہ دور نتیجہ خيز ثابت ہو سکے۔ اب تک ہونے والے مذاکرات کے کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ مذاکرات کے بارے میں یورپ کی منفی سوچ ، غیر معقول مطالبات پر اصرار اور منہ زوری پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ البتہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے آج کے مذاکرات کا ماحول سابقہ مذاکرات کے ماحول سے مختلف ہے۔ اس لۓ استنبول میں آج سے ہونے والے مذاکرات کو ایک نیا موقع قرار دیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپ اپنے غیر معقول مطالبات سے دستبردار ہوجاۓ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پروپیگنڈہ اور ماحول قائم کرنے کا عمل ترک کر دے تو اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور مفید مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ ایران دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کۓ جانے کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے والے ممالک سے بارہا کہا ہے کہ وہ این پی ٹی معاہدے میں درج اپنے فرائض پر عمل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران ایٹمی معاملے کے سلسلے میں منطقی مذاکرات پر تاکید کرتا ہے اور اسی موقف کے ساتھ اس نے استنبول مذاکرات میں شرکت کی ہے۔ بہرحال ایران ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے سلسلے میں پرعزم ہے۔

البتہ اس نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے ابہامات کو برطرف کرنے کے لۓ آمادہ ہے اسی لۓ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے آگے سوالیہ نشان لگانے اور تعمیری مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکانے کی پالیسی ایک ناکام پالیسی ہے۔ واضح سی بات ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں نتیجہ خيز ثابت ہو سکتے ہیں جب تمام فریق مثبت اور مفید سوچ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں۔.......

/169